Monday, 6 December 2021

دل کی کیا بات ہے منظر ہی نیا ہو جائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دل کی کیا بات ہے منظر ہی نیا ہو جائے

آپؐ کے ذکر سے صر صر بھی صبا ہو جائے

آپﷺ کے عشق کی تاثیر ہے پارس جیسی

یہ جو چھو جائے تو کھوٹا بھی کھرا ہو جائے

عشق ہو دل میں مِرے شیخِ محقق جیسا

نعتﷺ میں جذبۂ حسان عطا ہو جائے

عکس ہے گنبدِ خضرا کا جو ہے آنکھ ہری

کاش ایسا ہو مِرا دل بھی ہرا ہو جاٸے

کاش میں عشقِ محمدﷺ میں فنا ہو جاؤں

ایسا ہو جائے تو پھر میری بقا ہو جائے

اشک ہوتے ہیں رواں صبر کے خیمے کھولو

دل کی دھڑکن سے کہو بانگِ درا ہو جائے

پاک ہو جائے وہ پھر صورتِ شبنم شاہد

اک گنہ گار اگر نعت سرا ہو جائے


شاہد جان

No comments:

Post a Comment