عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دل کی کیا بات ہے منظر ہی نیا ہو جائے
آپؐ کے ذکر سے صر صر بھی صبا ہو جائے
آپﷺ کے عشق کی تاثیر ہے پارس جیسی
یہ جو چھو جائے تو کھوٹا بھی کھرا ہو جائے
عشق ہو دل میں مِرے شیخِ محقق جیسا
نعتﷺ میں جذبۂ حسان عطا ہو جائے
عکس ہے گنبدِ خضرا کا جو ہے آنکھ ہری
کاش ایسا ہو مِرا دل بھی ہرا ہو جاٸے
کاش میں عشقِ محمدﷺ میں فنا ہو جاؤں
ایسا ہو جائے تو پھر میری بقا ہو جائے
اشک ہوتے ہیں رواں صبر کے خیمے کھولو
دل کی دھڑکن سے کہو بانگِ درا ہو جائے
پاک ہو جائے وہ پھر صورتِ شبنم شاہد
اک گنہ گار اگر نعت سرا ہو جائے
شاہد جان
No comments:
Post a Comment