Monday, 6 December 2021

نعت کیا لکھوں یہی سوچ کے گھبراتا ہوں

عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت


نعت کیا لکھوں یہی سوچ کے گھبراتا ہوں

میں قلم ہاتھ میں لیتے ہوئے رک جاتا ہوں

اپنی کم مائیگئ علم پر شرماتا ہوں

خود کو و اللہ میں نااہل بہت پاتا ہوں

نعت لکھنے کے تصور سے لرز جاتا ہوں


نعت گو تجھ کو مِرا شیوۂ تکریم ملے

خامہ دل ، ورقِ جذبۂ تسلیم ملے

روشنائی کے لیے کوثر و تسنیم ملے

نعت لکھنے کے جو آداب ہیں بتلاتا ہوں

نعت لکھنے کے تصور سے لرز جاتا ہوں


آج فرسودہ روایات ہیں نعتوں کا لباس

شرک وبدعت کے خیالات پہ ہے جن کی اساس

نہیں مداح کو توحید کے آداب کا پاس

نعت میں پرتوِ اخلاص کہاں پاتا ہوں

نعت لکھنے کے تصور سے لرز جاتا ہوں


لاجرم یہ درِ شاہِ عربیﷺ ہے یارو

جنبشِ خامہ یہاں بے ادبی ہے یارو

عشق بے سوزِ جگر بُولہبی ہے یارو

دل کی نگری کو میں ویران بہت پاتا ہوں

نعت لکھنے کے تصور سے لرز جاتا ہوں


فطرت بھٹکلی

محمد حسین فطرت

No comments:

Post a Comment