وحی
عجیب موسم تھا وه بھی، جبکہ
عبادتیں کور چشم تھیں
اور عقیدتیں اپنی ساری بینائی کھو چکی تھیں
خود اپنے ہاتھوں سے ترشے پتھر کو دیوتا کہہ کے
خیر و برکت کی نعمتیں لوگ مانگتے تھے
مگر وه اک شخصﷺ
جو ابھی اپنے آپ پر بھی نہ منکشف تھا
عجیب الجھن میں مبتلا تھا
یہ وه نہیں ہیں، وه کون ہو گا؟ کا کربِ بے نام چکھ رہا تھا
سو اپنے ان نارسا دکھوں کی صلیب اٹھائے
غموں کی نایافت شہریت کو تلاش کرتے
وه شہرِ آذر سے دور
اپنے تمام لمحے
حِرا کے غاروں کے خواب آسا سکوت کو سونپنے لگا تھا
یہ سوچ کا اعتکاف بھی تھا
اور ایک اندیکھی روحِ کُل کے وجود کا اعتراف بھی تھا
وه رات بھی ارتکاز کی ایک رات تھی
جبکہ لمحہ بھر کو
فضا پہ سناٹا چھا گیا تھا
اور ہواؤں کی سانس رُک گئی تھی
ستارۂ شب کے دل کی دھڑکن ٹھہر گئی تھی
گریز پا ساعتیں تحیر زدہ تھیں
جیسے وجود کی نبض تھم گئی ہو
یکایک اک روشنی جمال و جلال کے سارے رنگ لے کر فضا میں گونجی
"پڑھو"
"میں پڑھ نہیں سکوں گا"
"پڑھو"
"مگر میں کیا پڑھوں"
پڑھو تم اپنے (عظیم) پروردگار کا نام لے کر"
جو سب کو خلق کرتا ہے
جس نے انسان کو بنایا ہے منجمد خون سے
پڑھو (کہ) تمہارا پروردگار بے حد کریم ہے
اور جس نے تم کو قلم سے تعلیم دی
اسی نے بتائیں انسان کو وه باتیں
"کہ جن کو وه جانتا نہیں تھا
فضائے بے نطق جیسے اقراء کا ورد کرنے لگی تھی
وه سارے لفظ، جو
تیرگی کے سیلاب میں کہیں بہہ چکے تھے
پھر روشنی کی لہروں میں
واپسی کے سفر کا آغاز کر رہے تھے
دریچۂ بے خیال میں
آگہی کے سورج اتر رہے تھے
اس ایک پل میں
وه میرا اُمیّ
مدینۃُ العِلم بن چکا تھا
پروین شاکر
No comments:
Post a Comment