خواب میں ایک ڈر نے آ لیا ہے
پیار کے بدلے ہم نے کیا لیا ہے
ہاں دِیوں سے نمی چرائی گئی
اور سورج سے راستہ لیا ہے
وہ مِرا پہلا پیار تھا؛ لیکن
اک سہیلی نے گھر بسا لیا ہے
وصل کی بات بن گئی تھی مگر
در گزر کر کے غم بچا لیا ہے
یہ گھنی ڈالیوں کا مالک تھا
بھوک نے اس شجر کو کھا لیا ہے
اس نے دیکھا جو سرد نظروں سے
تو عروبہ نے خود کو پا لیا ہے
عروبہ نقوی
No comments:
Post a Comment