Tuesday, 14 December 2021

پھیکا پھیکا ہے رنگ کاجل کا

 پھیکا پھیکا ہے رنگ کاجل کا

کیا ارادہ ہے آج بادل کا؟

میرے تلووں نے خار چن ڈالے

لطف باقی رہا نہ جنگل کا

حسن مغرور ہو گیا ہے اب

ایک ٹیکہ لگا کے صندل کا

شیخ آتے ہیں اس طرف شاید 

کاگ اڑنے لگا ہے بوتل کا 

میرے قاتل کی سادگی دیکھو 

راستہ پوچھتا ہے مقتل کا 


محب کوثر

No comments:

Post a Comment