تمہارے بعد
تمہارے بعد جینا زہر پینا ہے
مگر اس زہر پینے سے تو میں مر بھی نہیں سکتا
کہ اب اس زہر میں غلطاں
مِری بیٹی کا چہرہ ہے
مِرے بیٹے کا چہرہ ہے
میں جب یہ زہر پیتا ہوں تو
ان کے چہروں کی شیرینی مجھے مرنے نہیں دیتی
خدایا! تُو نے مجبوری کی زنجیریں
یہ کیوں پیروں میں ڈالی ہیں
مِرے آنسو سوالی ہیں
میں جس کے بعد جینے کا تصور کر نہیں سکتا
میں اس کے بعد جینے کے لیے مجبور ہوں لوگو
میں اس سے دور ہوں لوگو
یہ جینا زہر ہے اور زہر میں دن رات پیتا ہوں
نہ مرتا ہوں، نہ جیتا ہوں
تمہارے بعد جتنے پھول شاخوں پر کِھلے دیکھے
نہ جانے کیوں
مجھے یہ پھول اب اچھے نہیں لگتے
اگرچہ رنگ بھی ان کے سہانے ہیں، سلونے ہیں
یہ اچھے پھول ہیں، ان کی مہک اچھی بھی ہو، شاید
مگر ان میں تمہارے قُرب کی خوشبو نہیں ملتی
تمہارے ساتھ جب
پھولوں کے میں نزدیک جاتا تھا
تو یوں لگتا تھا جیسے پھول کی خوشبو تمہاری ہے
لبوں پہ ان کے جو کِھلتی تھی، وہ اردو تمہاری ہے
تمہارے بعد، لیکن پھول اب باتیں نہیں کرتے
مِری تنہائی بھی چُپ ہے
مہکتے پھول بھی چُپ ہیں
تم آ جاؤ تو شاید درد کا موسم بدل جائے
ہلال نقوی
No comments:
Post a Comment