دشمن کو بھی نفرت کا پیمبر نہ لکھیں گے
ہم پیار کے موضوع سے ہٹ کر نہ لکھیں گے
رودادِ ستم آپ کی ہم اپنے لہو سے
لکھیں گے مگر آپ سے بہتر نہ لکھیں گے
ہیرا ہے بہت سخت بھی شفاف بھی لیکن
جو اہلِ نظر ہیں اسے پتھر نہ لکھیں گے
اس دور کے حالات کو لکھیں گے مؤرخ
ڈر یہ ہے کہ حالات کے تیور نہ لکھیں گے
جوہر صدیقی
No comments:
Post a Comment