عارفانہ کلام نعتیہ کلام
براہِ دستِ طلب، انکسارِ ذات کے پھول
قبول کیجیۓ لایا ہوں چار نعت کے پھول
تُو میری قبر پہ خاکِ مدینہ رکھنا دوست
مِری طلب میں نہیں تیری کائنات کے پھول
درودﷺ پڑھتے ہوئے کوئی بھی ارادہ کروں
مہک اٹھیں گے مِرے پاس ممکنات کے پھول
حضورﷺ آپؐ کے دستِ دعا کی نسبت سے
بروزِ حشر مہک جائیں گے نجات کے پھول
مجھے جو ناقۂ نبویﷺ کا ساتھ مل جاتا
بڑی لگن سے سجاتا اسے میں کات کے پھول
سنو، یہ میرے نبیﷺ کی دعاؤں کا ہے ثمر
فرشتے بانٹنے آئے شبِ برأت کے پھول
حضورﷺ آپﷺ کا ادنیٰ غلام ہے انجم
جو آپﷺ چاہیں تو کھلتے رہیں حیات کے پھول
آصف انجم
No comments:
Post a Comment