عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ابتداء کی بات کر، یا انتہا کی بات کر
اول و آخر ہیں پیارے مصطفیٰؐ کی بات کر
راستے وہ جانتے ہیں سب جہانوں کے سبھی
بات کر تحت الثرٰی، یا مُنتہٰی کی بات کر
مشکلیں سب دور تیری دفعتاً ہو جائیں گی
مشکلوں میں مولائے مُشکل کُشا کی بات کر
زندگی پُر نور تیری دیکھنا ہو جائے گی
غم کی کالی رات میں بدرِالدجٰی کی بات کر
ہے ہدایت کی تمنا، یا اماں کی آرزو
بات کر نُورِالھدٰی کھفِ الوریٰ کی بات کر
کیوں بلندی میں نہ بدلیں گی تمہاری پستیاں
کر کے اشکوں سے وضو صدرِالعلٰی کی بات کر
تُو اگر یہ چاہتا ہے سب سنیں باتیں تِری
منبعِ اخلاق پیارے مُجتبٰیﷺ کی بات کر
خیر کی خواہش اگر عابد تمہارے دل میں ہے
والئ دونوں جہاں خیرِالوریٰؐ کی بات کر
ایس ڈی عابد
No comments:
Post a Comment