Wednesday, 15 December 2021

حق پرستی کے سزاوار ہوا کرتے تھے

 حق پرستی کے سزاوار ہوا کرتے تھے

ہم کبھی صاحبِ کردار ہوا کرتے تھے

کوئی مذہب ہو کوئی رنگ ہو مل بیٹھتے تھے

دیس میں ایسے بھی تہوار ہوا کرتے تھے

پاسِ تہذیب تھا اک وہ بھی زمانہ تھا کبھی

میرے دشمن بھی مِرے یار ہوا کرتے تھے

اس طرح تھک کے تو بیٹھا نہیں کرتے تھے ہم

راستے پہلے بھی دُشوار ہوا کرتے تھے

اب تو سُوکھے ہوئے پتوں کا بھرم رکھتے ہیں

ہم کبھی شاخِ ثمر دار ہوا کرتے تھے

پگڑیاں قدموں میں رکھنے کا ہُنر سیکھ گئے

ہم وہی ہیں جو سرِ دار ہوا کرتے تھے


تاشی ظہیر

No comments:

Post a Comment