Wednesday, 15 December 2021

دیوں پر لکھی ہے عبارت ہوا کی

 دِیوں پر لکھی ہے عبارت ہوا کی

کہ تاریکیاں ہیں شرارت ہوا کی

بُجھے دِیپ پر بیٹھ کر ایک جگنو

ہوا کر گیا سب حقارت ہوا کی

مدینے کو جانا، مدینے سے آنا

حقیقت میں یہ ہے طہارت ہوا کی

چہکنے لگے ہیں اندھیرے یونہی کیا

انہیں مل چکی ہے بشارت ہوا کی

اگر وقت ہو قیس تو دشت میں ہم

ذرا کر کے آئیں زیارت ہوا کی؟

بُجھا کے دِیا، پھر گِرا بھی دیا ہے

ارے، اتنی جرأت، جسارت ہوا کی

جلائے بھی خود ہی بُجھائے بھی خود ہی

سمجھ ہی نہ آئے بُجھارت ہوا کی

کہاں بُھولتی ہیں دِیؤں کو وہ راتیں

انہیں یاد ہے قتل و غارت ہوا کی

کرو کوئی قندیل روشن کہیں بھی

ذرا دیکھیۓ پھر بصارت ہوا کی

مساموں سے آنسو نکلنے لگے تھے

گِری حبس سے جب عمارت ہوا کی

سرِ دشت مجنوں کی شہ پر مسلسل

جنوں کر رہا ہے تجارت ہوا کی

وہیں پھر مہک نے بصارت عطا کی

جُدائی نے جو تھی بصارت ہوا کی

ارے دشت کے چاک پر یہ بگولے

یہ کوزہ گری، یہ مہارت ہوا کی


مظہر الحق

No comments:

Post a Comment