Wednesday, 15 December 2021

موت کی اب ہر طرف یلغار ہے

 موت کی اب ہر طرف یلغار ہے

اس وبا سے اب جہاں بیزار ہے

بھول بیٹھے تھے جو رب کو ایک دم

ان پہ رب کی دیکھ لو پھٹکار ہے

سب ہی ڈوبے ہیں گُنہ میں اب یہاں

اس لیے ہم پر وبا کی مار ہے

خوف و دہشت کا ہے سایہ ہر طرف

جس کو دیکھو اب وہی بیمار ہے

کیسی حالت ہو گئی سب کی یہاں

دل سے دل ملنا ہی اب دشوار ہے

کتنے ہیرے کھو دئیے کووڈ میں ہم

ان کی فُرقت سے یہ دل افگار ہے

ہیں سبھی عالم یہاں بے بس بہت

پھر بھی بدلا ان کا کیا کردار ہے؟


عالم فیضی

No comments:

Post a Comment