یہ نام ہے کس کا کہ دہن کانپ رہا ہے
دشمن کا بھرم زیرِ کفن کانپ رہا ہے
انساں نے اٹھایا ہے بڑا فتنہ زمیں پر
اب آمدِ انسان سے رن کانپ رہا ہے
تتلی نے کیا ترکِ تعلق جو گلوں سے
طائر کی فقیری سے چمن کانپ رہا ہے
احساس نے دیکھا ہے عجب سیلِ رواں اب
لفظوں کے تصادم سے سخن کانپ رہا ہے
شہروں میں لرزتی ہیں پرندوں کی اڑانیں
جنگل میں درختوں کا بدن کانپ رہا ہے
یہ حال عدالت کا ہے اس دیس میں عادل
اب نام پہ انصاف کے من کانپ رہا ہے
عادل اشرف
No comments:
Post a Comment