تھا جو عشق اب مسلسل وہ جنون لگ رہا ہے
جو ملے ہو پھر بچھڑ کے تو سکون لگ رہا ہے
میں اٹھا کے یہ کھلونا کہیں دور پھینک دوں گی
میری کال مل رہی ہے نہ ہی فون لگ رہا ہے
مِرا وہم ہے یقیناً، یا کوئی نظر کا دھوکا
جسے رنگ کہہ رہے ہو مجھے خون لگ رہا ہے
جو مِرے خلاف بولے انہیں کہہ دو میرے حق میں
یہی ایک دو دنوں میں مضمون لگ رہا ہے
یہ جو سجدۂ محبت ہے قضا نہ کیجئے گا
یہی دین عشق کا اب تو ستون لگ رہا ہے
جسے ترک کر چکے ہو نئے خوشنما سروں میں
مجھے اپنا آپ ایسی کوئی ٹون لگ رہا ہے
مجھے پہلے پہلے آیا تھا عقیق راس لیکن
ابھی کنڈلی موافق زرقون لگ رہا ہے
کوئی دھند آن اتری مِری چشمِ تر میں کومل
یہاں جنوری لکھا تھا مجھے جون لگ رہا ہے
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment