Wednesday, 15 December 2021

تھا جو عشق اب مسلسل وہ جنون لگ رہا ہے

 تھا جو عشق اب مسلسل وہ جنون لگ رہا ہے

جو ملے ہو پھر بچھڑ کے تو سکون لگ رہا ہے

میں اٹھا کے یہ کھلونا کہیں دور پھینک دوں گی

میری کال مل رہی ہے نہ ہی فون لگ رہا ہے

مِرا وہم ہے یقیناً، یا کوئی نظر کا دھوکا

جسے رنگ کہہ رہے ہو مجھے خون لگ رہا ہے

جو مِرے خلاف بولے انہیں کہہ دو میرے حق میں

یہی ایک دو دنوں میں مضمون لگ رہا ہے

یہ جو سجدۂ محبت ہے قضا نہ کیجئے گا

یہی دین عشق کا اب تو ستون لگ رہا ہے

جسے ترک کر چکے ہو نئے خوشنما سروں میں

مجھے اپنا آپ ایسی کوئی ٹون لگ رہا ہے

مجھے پہلے پہلے آیا تھا عقیق راس لیکن

ابھی کنڈلی موافق زرقون لگ رہا ہے

کوئی دھند آن اتری مِری چشمِ تر میں کومل

یہاں جنوری لکھا تھا مجھے جون لگ رہا ہے


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment