Thursday, 16 December 2021

دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ

آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پُشتارا

سرگشتہ و درماندہ، بے ہمت و ناکارہ

وارفتہ و سرگرداں، بے مایہ و بے چارہ

شیطاں کا ستم خوردہ اس نفس کا دُکھیارا

ہر سمت سے غفلت کا گھیرے ہوئے اندھیارا

دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ


جذبات کی موجوں میں لفظوں کی زباں گم ہے

عالم ہے تحیر کا یارائے بیاں گم ہے

مضمون جو سوچا تھا کیا جانے کہاں گم ہے

آنکھوں میں بھی اشکوں کا اب نام و نشاں گم ہے

سینے میں سلگتا ہے رہ رہ کے اک انگارہ

دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ


آیا ہوں ترے در پر خاموش نوا لے کر

نیکی سے تہی دامن انبارِ خطا لے کر

لیکن تِری چوکھٹ سے امیدِ سخا لے کر

اعمال کی ظلمت میں توبہ کی ضیا لے کر

سینے میں تلاطم ہے دل شرم سے صدپارہ

دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ


امید کا مرگز ہے رحمت سے بھرا گھر ہے

اس گھر کا ہر اک ذرہ رشکِ مہ و اختر ہے

محروم نہیں کوئی جس در سے یہ وہ در ہے

جو اس کا بھکاری ہے قسمت کا سکندر ہے

یہ نور کا قلزم ہے یہ امن کا فوّارہ

دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ


یہ کعبہ کرشمہ ہے یارب تری قدرت کا

ہر لمحہ یہاں جاری میزاب ہے رحمت کا

ہر آن برستا ہے دھن تیری سخاوت کا

مظہر ہے یہ بندوں سے خالق کی محبت کا

اس عالم پستی میں عظمت کا یہ چوبارا

دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ


یارب مجھے دنیا میں جینے کا قرینہ دے

میرے دلِ ویراں کو الفت کا خزینہ دے

سیلابِ معاصی میں طاعت کا سفینہ دے

ہستی کے اندھیروں کو انوارِ مدینہ دے

پھر دہر میں پھیلا دے ایمان کا اجیارا

دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ


یارب میری ہستی پر کچھ خاص کرم فرما

بخشے ہوئے بندوں میں مجھ کو بھی رقم فرما

بھٹکے ہوئے راہی کا رخ سوئے حرم فرما

دنیا کو اطاعت سے گلزارِ ارم فرما

کردے میرے ماضی کے ہر سانس کا کفارہ

آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارا

دربار میں حاضر ہے اک بندۂ آوارہ


مفتی تقی عثمانی

No comments:

Post a Comment