Thursday, 16 December 2021

اپنی پلکوں پہ مرے اشک پرونے والی

 اپنی پلکوں پہ مِرے اشک پرونے والی

مجھ سے بھی پہلے مِرے درد پہ رونے والی

مجھ کو احساسِ یتیمی سے بچائے رکھا

پھول ہی پھول مِری راہوں میں بونے والی

میری ہر سانس ہے مقروضِ محبت تیری

بوڑھے ہاتھوں سے مِرے کپڑوں کو دھونے والی

صبر اور شکر تِری عمر کا حاصل ٹھہرے

قلزمِ فقر میں تن من کو ڈبونے والی

تجھ کو انعام ملے کیوں نہ کلیدِ جنت

حبِ درویشاں میں ہے پاس تو ہونے والی

مجھ کو جرموں کی تلافی کا بھی موقعہ نہ دیا

بے خیالی میں مِرے ہاتھ سے کھونے والی

روز روتی ہے مِری تلخ مزاجی تجھ کو

میٹھی باتوں سے مِرے دل کو بھگونے والی

کون راتوں کو مِرے واسطے اب جاگے گا

تختِ فردوس پہ آرام سے سونے والی

ماں کو کھویا ہے تو یہ راز کُھلا ہے دائم

ماں تو ماں ہوتی ہے چاہے ہو کھلونے والی


دائم بٹ

No comments:

Post a Comment