عارفانہ کلام منقبت سلام
دے دیں کلاہِ حرف قبائے سخن کے ساتھ
ہے ربط اس دعا کا درِ پنجتن کے ساتھ
یارب میں ان کے عشق کو منظوم کر سکوں
ہو ذکر کربلا کا کتابِ سخن کے ساتھ
جس کے لہو سے عشق کا مقتل ہے سرخرو
وہ تھا فرازِ دار پہ اک بانکپن کے ساتھ
دستارِ جبر کاٹ دی پھر تیغِ صلح سے
حلمِ محمدیﷺ رہا حلمِ حسنؑ کے ساتھ
کب لا سکا اجل کا فسوں ان کو دام میں
آئے مسافرانِ مصیبت کفن کے ساتھ
ہمراہ کائنات کی وسعت کو لے چلا
وہ اک غریب ہجرت و ترکِ وطن کے ساتھ
کاری تھی ضربِ شہؑ سرِ پندارِ جبر پر
توڑا حصارِ ظلم کو بے کس بہن کے ساتھ
کیسے کروں میں کربِ دلِ سیدہؑ بیاں
حسرت بدوش ماں رہی اک خستہ تن کے ساتھ
پروین حیدر
No comments:
Post a Comment