عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہم نے نہیں لیا کبھی اغیار کا دِیا
اپنے تو گھر میں صرف ہے سرکاؐر کا دیا
ڈھونڈو نہ روشنی میں کسی داغ کا وجود
صدیوں سے جل رہا ہے یہ کردار کا دیا
اس روز لازماً ملی نعتوں کی روشنی
جس روز بھی جلا مِرے افکار کا دیا
لفظوں کی روشنی سے سماعت مہک اٹھی
ہونٹوں کے طاقچے پہ تھا گفتار کا دیا
وہ آفتابِ ارض و سماوات بن گیا
جس کو سمجھ رہے تھے سبھی غار کا دیا
اسوہ کے نور سے ہوا روشن جہاں تمام
اسلام میں کہیں نہیں تلوار کا دیا
مظہر الحق
No comments:
Post a Comment