عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تصور میں نبیﷺ کے شہر کا منظر بھی ہوتا ہے
غمِ ہجراں میں لیکن میرا دامن تر بھی ہوتا ہے
ہمیں قرآں بتاتا ہے یہ سنّت ہے رسولوں کی
نبی کارِ نبوّت کے لیے بے گھر بھی ہوتا ہے
نبیﷺ چھولیں اگر سوکھا شجر سرسبز ہوجائے
اگر چومیں لبوں سے معتبر پتھر بھی ہوتا ہے
کیے ظلم و ستم سرکارﷺ نے انگیز ایسے بھی
کہ جن کا سوچنا اپنے لیے دوبھر بھی ہوتا ہے
سفیر آتا ہے فارس کا اگرچہ کر و فر کے ساتھ
چٹائی پر نبیﷺ کو دیکھ کر ششدر بھی ہوتا ہے
حیاتِ مصطفیٰﷺ کا جزوِ لازم بوریا ٹھہرا
تہجد میں مصلٌیٰ بعد میں بستر بھی ہوتا ہے
نبیﷺ کی پرورش کا فیض ہو جس کے مقدر میں
وہ دیدہ ور بھی ہوتا ہے علیؓ حیدر بھی ہوتا ہے
درِ سرکارﷺ پر نعتیں خلش! رو کر سناتےہیں
ہمارے خواب میں یہ واقعہ اکثر بھی ہوتا ہے
اقبال خلش
No comments:
Post a Comment