Sunday, 5 December 2021

کسی کے ساتھ نہ ہونے کے دکھ بھی جھیلے ہیں

 کسی کے ساتھ نہ ہونے کے دُکھ بھی جھیلے ہیں

کسی کے ساتھ مگر اور بھی اکیلے ہیں

اب اس کے بعد نہ جانے نصیب میں کیا ہے

نہ ساتھ آؤ ہمارے، بہت جھمیلے ہیں

کہاں ہے یاد ملا کوئی کب تو کب بچھڑا

ہم اپنے دھیان سے اترے ہوئے سے میلے ہیں

کہو نہ مجھ سے کہ چلتے ہیں اب ملیں گے پھر

یہ کھیل وہ ہیں کہ صدیوں سے لوگ کھیلے ہیں

جو گھر میں جاؤں تو آواز تک نہیں کوئی

گلی میں آؤں تو ہر سُو صدا کے ریلے ہیں

جو لوگ بُھول بھلیاں ہیں تلخ اب اپنی

نہیں وہ صرف اکیلے بہت اکیلے ہیں


منموہن تلخ

No comments:

Post a Comment