مجھے عشق تم سے ہوا ہے، نہیں نا؟
کبھی میں نے ایسا کہا ہے، نہیں نا؟
خریدو گے کیسے؟ بِکاؤ نہیں ہے
کہیں عشق بولو بِکا ہے، نہیں نا؟
کوئی عشق کر کے نہ رسوا ہوا ہو
کہو تم نے ایسا سُنا ہے، نہیں نا؟
نمازِ محبت تو ہے فرضِ لازم
قضا اس کی ہوتی ادا ہے، نہیں نا؟
وہ خالق ہے، بندہ ہے مخلوق اُس کی
تو بندے کا مطلب خدا ہے، نہیں نا؟
جو ہے لامکاں وہ ہے موجود مجھ میں
تو کیسے میں کہہ دوں جُدا ہے، نہیں نا؟
یہ مختار ہے یا کہ مجبور بندہ؟
یہ عقدہ کسی پر کُھلا ہے، نہیں نا؟
مسلسل سفر ہی تو ہے عشق عابد
کبھی یہ کہیں پر رُکا ہے، نہیں نا؟
ایس ڈی عابد
No comments:
Post a Comment