Monday, 6 December 2021

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی

 کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی

پڑھ سکتی مستقبل اپنا

بُن سکتی میٹھا سپنا

کب خوشی ملے گی

کب دل روئے گا

زندگی کا کھیل سمجھ پاتی

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی

پھاڑ سکتی میں ان لمحوں کو

جس نے مجھے رُلایا

شامل کرتی وہ صفحے

جنہوں نے مجھے ہنسایا

کتنا کھویا، کتنا پایا

محاسبہ کر پاتی

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی

وقت سے آنکھیں چُرا کر

پیچھے چلی جاتی

ٹوٹے ہوئے خوابوں کو

آرزوؤں سے دوبارہ سجاتی

ایک لمحے کے لیے

میں پھر سے مسکراتی

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی


شاکرہ نندنی

No comments:

Post a Comment