Friday, 10 December 2021

محبت کو کسی موسم سے فرق نہیں پڑتا

 Love's entity


محبت کو کسی موسم سے

فرق نہیں پڑتا

محبت کی نظمیں

مارچ کی خوشبوؤں

اکتوبر کی سرسراہٹ کے بیچ

مخصوص لمحوں کے محلول میں

تحلیل نہیں ہوتیں

ناگہانی طوفانوں کے قدموں تلے آکر

ادھوری نہیں رہتیں

کھڑکیوں کو بوسہ دیتی

بارشوں کے قلم سے

تکمیل نہیں ہوتیں

محبت کے اشعار

جون کے رینگتے دنوں سے

وقت ادھار نہیں مانگتے

نہ دسمبر میں چائے کی میز پر

ہر وقت مدعو رہتے ہیں

مہینے کے آخر میں

واہ واہ کی اُجرت نہیں لیتے

نہ سات دنوں کے سمندر میں

ہر روز بہتے ہیں

محبت کی غزلیں

ہر سال

ایک رُت کے دوسری رُت سے ملنے کے لیے

آنے والی ٹرینوں میں

سفر نہیں کرتیں

یہ دُھند کے سٹاپ پر

مصرعوں کو نہیں اتارتیں

نہ حبس کے شہروں سے

پیغام لیتی ہیں

ہاں، یہ غزلیں

چاند کے لوٹ آنے کی

مُنتظر نہیں ہوتیں

نہ فصلیں اترنے پر

نئے جذبوں کا نام لیتی ہیں

محبت کو موسم کیا

کسی تہوار، یادگار سے فرق نہیں پڑتا

محبت کی کہانیاں

نئے سال کی پہلی صبح پر

مبارک فرض نہیں کرتیں

نہ فروری کے نصف میں

ہر سستے مہنگے سٹور پر

تحفے ڈھونڈنے نکلتی ہیں

محبت کی کہانیاں

محبوب کے جنم دن پر

کیک کاٹنے سے پوری نہیں ہوتیں

نہ بسنتی رنگ منانے سے

اچھا انجام لکھ پاتی ہیں

محبت کے اپنے موسم اپنے تہوار ہوتے ہیں

یہ جب چاہے

ہر موسم کو پکار سکتی ہے

سن سکتی ہے

یہ جب چاہے

خوشیوں اور آنسوؤں کے دنوں کی

اپنی فہرست بنا سکتی ہے

یہ جب چاہے

مقررہ دنوں سے ہاتھ کھینچ سکتی ہے

عام تاریخوں میں دل لگا سکتی ہے

یہ جب چاہے

بند دروازے کے باہر تحفہ رکھ سکتی ہے

ٹوٹے گلدانوں میں سالم پھول سجا سکتی ہے

اپنی دھن پر اپنا گیت گانے والی محبت

کسی حساب میں نہیں پڑتی

پہر گِنا نہیں کرتی

رات اور دن کے ملنے کے

لمحوں موسموں کی جدائی کے

محبت کو واقعی کسی شئے

سے فرق نہیں پڑتا

سوائے بے وفائی کے


حمیرا فضا

No comments:

Post a Comment