عارفانہ کلام حمدیہ کلام
کتنا احسان ہے تیرا یہ عنایت کرنا
تجھ کو منظور ہوا مجھ سے محبت کرنا
حسرتوں کا بھی کوئی روزِ جزا ہے کہ نہیں
میری حسرت میں تو تھا تیری اطاعت کرنا
حق نہیں ہے نہ سہی تیری سخاوت کے حضور
ہے مِرا کام تمنا کی جسارت کرنا
جسم زندانِ عناصر میں گرفتار سہی
تو بہر حال مِرے دل پہ حکومت کرنا
بوند ہوں کامِ صدف تک مجھے پہنچا دینا
شورشِ موج میں خود میری حفاظت کرنا
دل کو دریوزۂ کثرت میں نہ الجھا دینا
مجھ کو ہر سانس میں تنہا تُو کفایت کرنا
خورشید رضوی
No comments:
Post a Comment