Saturday, 11 December 2021

کتنا احسان ہے تیرا یہ عنایت کرنا

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


کتنا احسان ہے تیرا یہ عنایت کرنا

تجھ کو منظور ہوا مجھ سے محبت کرنا

حسرتوں کا بھی کوئی روزِ جزا ہے کہ نہیں

میری حسرت میں تو تھا تیری اطاعت کرنا

حق نہیں ہے نہ سہی تیری سخاوت کے حضور

ہے مِرا کام تمنا کی جسارت کرنا

جسم زندانِ عناصر میں گرفتار سہی

تو بہر حال مِرے دل پہ حکومت کرنا

بوند ہوں کامِ صدف تک مجھے پہنچا دینا

شورشِ موج میں خود میری حفاظت کرنا

دل کو دریوزۂ کثرت میں نہ الجھا دینا

مجھ کو ہر سانس میں تنہا تُو کفایت کرنا


خورشید رضوی

No comments:

Post a Comment