عارفانہ کلام حمدیہ کلام
تو کرم کیش ہے تقصیر و خطا کام مِرا
تیری بخشش سے ہے کم ظرف مِرا، جام مِرا
محوِ حیرت ہوں کروں کیسے مخاطب تجھ کو
کج ہیں الفاظ مِرے، طرزِ سُخن خام مرا
حج کے میداں میں بھی ہوں شر م سے پانی پانی
گرد آلود گناہوں سے ہے احرام مرا
لاکھ محتاط چلا ہوں میں تِری راہوں میں
پھر بھی لرزیدہ رہا عزم بہر گام مرا
اپنی رحمت کے سحابوں میں چھپا لینا مجھے
جب کھلے نامۂ اعمال سرِ عام مرا
روزِ محشر جو حوالوں سے پکارا جائے
تیرے محبوبﷺ کے خدام میں ہو نام مرا
عِجز سے بارگہِ حق میں دعا ہے راسخ
دہر سے اٹھوں تو بالخیر ہو انجام مرا
راسخ عرفانی
No comments:
Post a Comment