Monday, 13 December 2021

جھرنوں کے درمیاں سے گزرنے لگی ہے شام

 جھرنوں کے درمیاں سے گزرنے لگی ہے شام

بھیگی ہوئی فضا سے نکھرنے لگی ہے شام

کمرے میں بد گمان جو رکھا تھا آئینہ

ہاتھوں میں اس کو لے کے سنورنے لگی ہے شام

اب، صبحِ گل فشاں کا زمانہ قریب ہے

صحن چمن میں آ کے ٹھہرنے لگی ہے شام

سونے نہ دے گی چین سے پھر رات بھر مجھے

آنکھوں میں دھیرے دھیرے اترنے لگی ہے شام

بوسیدہ سی سواد کی چادر کو اوڑھ کر

سُونی گلی گلی سے گزرنے لگی ہے شام


انیتا سونی

No comments:

Post a Comment