Monday, 13 December 2021

وہ ہوا پر سوار ہے سو ہے

 وہ ہوا پر سوار ہے سو ہے

کبر اس کا مدار ہے سو ہے 

خود نمائی شعار ہے سو ہے 

آدمی اشتہار ہے سو ہے 

رائیگاں ہے مِرا خلوص وفا 

وہ انا کا شکار ہے سو ہے 

لاکھ منت کرے سکھی حاتم 

بھیک سے ہم کو عار ہے سو ہے 

فقر و فاقہ نہیں ہے مجبوری 

یہ ہمارا شعار ہے سو ہے 

بارِ احساں اتارئیے کیسے 

نقدِ جاں مستعار ہے سو ہے 

دیکھیۓ بھی وہ پار ہے سو ہے 

یہ سمندر ہے علم و دانش کا 

بے کراں بے کنار ہے سو ہے 


اقبال خلش

No comments:

Post a Comment