دل کو آمادۂ وفا رکھیۓ
آندھیاں ہیں دِیا جلا رکھیۓ
کتنی صدیوں کی برف پگھلی ہے
سیل کا راستہ کُھلا رکھیۓ
بن کے لاوہ بہے گا جوشِ نمو
اب نہ اس آگ کو دبا رکھیۓ
خونِ اہلِ نظر سے گلگوں ہے
خاک کا نام کیمیا رکھیۓ
جو سحر کی کرن سے پُھوٹے ہیں
ان اندھیروں کا نام کیا رکھیۓ
جلتی شاموں کی اس چتا پہ جلیل
اک نئی صبح کی بِنا رکھیۓ
حسن اختر جلیل
No comments:
Post a Comment