Sunday, 13 March 2022

عاجز ہوئے طبیب مرا کچھ نہیں بچا

 عاجز ہوئے طبیب، مِرا کچھ نہیں بچا

واللّٰہ مِرے حبیب، مِرا کچھ نہیں بچا

قسمت نے حال میرا زبوں کر دیا ہے دوست

پُھوٹا مِرا نصیب، مِرا کچھ نہیں بچا

ملتے ہیں ہاتھ سب ہی مجھے دیکھ کر یہاں

حالت ہے اب عجیب، مِرا کچھ نہیں بچا

اب تو ملاپ جسم و جاں کا ہے فضول، سو

مت آ مِرے قریب، مِرا کچھ نہیں بچا

ان کے قیاس میں کوئی تو دم ہے دوستا

کہتے ہیں سب لبیب، مِرا کچھ نہیں بچا

تاب و تواں نہیں، نہ ہی ہے حوصلہ جواں

لکھ دے مِرے ادیب! مِرا کچھ نہیں بچا

مقدور بھر سبھی نے دُکھایا ہے دل مرا

اللّٰہ! مِرے حسیب، مِرا کچھ نہیں بچا

💝احباب کو ملا ہے سکونِ جگر حیا

اور خوش ہیں سب رقیب، مِرا کچھ نہیں بچا


ماہم حیا صفدر

No comments:

Post a Comment