Saturday, 12 March 2022

خود کو آنسو کر لیا ہم نے خوشی کرتے ہوئے

 خود کو آنسو کر لیا ہم نے خوشی کرتے ہوئے

موت کی آغوش میں ہیں زندگی کرتے ہوئے

کیا کہیں کیسی شکست و ریخت کا تھا سامنا

اپنے ارمانوں سے دامن کو تہی کرتے ہوئے

کچھ پتہ ہی نا چلا من پر کہاں شبخوں پڑا

دل لگی میں، دل لگی سے، دل لگی کرتے ہوئے

اب کہاں کے مرحلے یہ بِیچ میں آنے لگے

کوئی شرطیں تو نہیں تھیں دوستی کرتے ہوئے

جب یہ دیکھا ظاہری چہرے کی وقعت ہے یہاں

من اندھیرا کر لیا، تن روشنی کرتے ہوئے

دل کا مندر صاف ہم کرتے نہِیں اصنام سے

بت پرستی بھی ہے جاری، بندگی کرتے ہوئے

ایک مدت ہو گئی دل ہم نے کھویا تھا کہِیں

سنتے ہیں پایا گیا آوارگی کرتے ہوئے

فاصلے جو بِیچ میں تھے، پاس کتنے تھے کبھی

دور جا بیٹھے ہیں ربطِ باہمی کرتے ہوئے

رند ہوں، وعدہ شکن ہوں، کیا بھروسہ ہے رشید

آج توبہ، کل جو تم پاؤ وہی کرتے ہوئے


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment