ہماری محفلوں میں بے حجاب آنے سے کیا ہو گا
نہیں جب ہوش میں ہم جلوہ فرمانے سے کیا ہو گا
جنوں کے ساتھ تھوڑی سی فضائے لا مکاں بھی دے
مِری وحشت کو اس دنیا کے ویرانے سے کیا ہو گا
ہے مر جانا کلیدِ فتح، سمجھایا تھا رندوں نے
مگر ناصح یہ کہتا ہے کہ مر جانے سے کیا ہو گا
زہے قسمت اگر حضرت خود اپنا جائزہ بھی لیں
ہماری زندگی پر تیر برسانے سے کیا ہو گا
اگر ہمدرد بنتے ہو تو زنجیریں ذرا کھولو
مری پا بستگی پر یوں ہی غم کھانے سے کیا ہو گا
در پیر مغاں چھوڑیں یہ ہم سے ہو نہیں سکتا
کوئی واعظ سے کہہ دو تیرے بہکانے سے کیا ہو گا
جسے دیکھو وہ ہے سرمست صہبائے خرد یکسر
خداوندا! یہاں اک تیرے دیوانے سے کیا ہو گا
نہیں قلب و جگر میں خون کا قطرہ کوئی باقی
عزیزو اب ہمارے ہوش میں آنے سے کیا ہو گا
دکھوں کو کھو نہیں سکتے اگر اہل خرد عرشی
تو خالی سینۂ افلاک برمانے سے کیا ہو گا
امتیاز علی عرشی
No comments:
Post a Comment