Saturday, 12 March 2022

جو دل میں آگ تھی آںکھوں میں پانی ہوتی جاتی ہے

 جو دل میں آگ تھی آںکھوں میں پانی ہوتی جاتی ہے

زہے قسمت، محبت نقشِ ثانی ہوتی جاتی ہے

کلی کچھ سوچ کر کہتی نہیں ہے داستانِ غم

مگر تشریح شبنم کی زبانی ہوتی جاتی ہے

ابھی بادل نہیں اٹھے، ابھی پانی نہیں برسا

ابھی کیوں کم یہ اشکوں کی روانی ہوتی جاتی ہے

نگاہوں میں شراب و کیف، ہونٹوں میں گل و غنچہ

بہارِ حسنِ دو عالم جوانی ہوتی جاتی ہے

کہاں صبحِ چمن تاریک تھی میری نگاہوں میں

کہاں شامِ قفس بھی اب سہانی ہوتی جاتی ہے

ستاروں کی بجھے شمعوں کو اے ضو بخشنے والے

ادھر بھی ختم اک شمع جوانی ہوتی جاتی ہے

ہزاروں چلمنوں میں رخ چھپا کر بیٹھنے والے

فضا دنیا کی اب ارغوانی ہوتی جاتی ہے

سلام ایسی ہو اب لغزش کہ نکلیں بزم دنیا سے

کہانی خلد و آدم کی پرانی ہوتی جاتی ہے


سلام سندیلوی

No comments:

Post a Comment