Sunday, 6 March 2022

ہے کتنی خود غرض مکار دنیا ہم نے دیکھا ہے

 ہے کتنی خود غرض مکار دنیا ہم نے دیکھا ہے

خود اپنی ہی تباہی کا تماشہ ہم نے دیکھا ہے

ہمارے گھر جلے ہیں خود ہمارے ہی چراغوں سے

کھلی آنکھوں سے اپنوں کا ارادہ ہم نے دیکھا ہے

یہ سجدہ ریز تک ہوتی ہے دنیا جبر کے آگے

کہیں ڈر سے بجا لاتی ہے مجرا ہم نے دیکھا ہے

قیامت خیز طوفانوں میں برساتی ہواؤں میں

ابھرتے ڈوبتے دل کا جزیرہ ہم نے دیکھا ہے

تسلی دینے والے خود مزا لیتے ہیں ہنس ہنس کر

پس احسان و ہمدردی، دکھاوہ ہم نے دیکھا ہے

صف ماتم کی تیاری کہیں شہنائیاں سرگرم

دکھاتی ہے یہ دنیا رنگ کیا کیا ہم نے دیکھا ہے

ہوا کیا اس سے حاصل مے کدے والو بتا دینا

جو گرنے اور سنبھلنے کا تماشا ہم نے دیکھا ہے

خلوص دل سے ساری سرحدیں مل جاتی ہیں نجمی

جہاں ملتے ہیں سب رستے وہ رستہ ہم نے دیکھا ہے 


م ش نجمی

محمد شفیق نجمی

No comments:

Post a Comment