ہے کتنی خود غرض مکار دنیا ہم نے دیکھا ہے
خود اپنی ہی تباہی کا تماشہ ہم نے دیکھا ہے
ہمارے گھر جلے ہیں خود ہمارے ہی چراغوں سے
کھلی آنکھوں سے اپنوں کا ارادہ ہم نے دیکھا ہے
یہ سجدہ ریز تک ہوتی ہے دنیا جبر کے آگے
کہیں ڈر سے بجا لاتی ہے مجرا ہم نے دیکھا ہے
قیامت خیز طوفانوں میں برساتی ہواؤں میں
ابھرتے ڈوبتے دل کا جزیرہ ہم نے دیکھا ہے
تسلی دینے والے خود مزا لیتے ہیں ہنس ہنس کر
پس احسان و ہمدردی، دکھاوہ ہم نے دیکھا ہے
صف ماتم کی تیاری کہیں شہنائیاں سرگرم
دکھاتی ہے یہ دنیا رنگ کیا کیا ہم نے دیکھا ہے
ہوا کیا اس سے حاصل مے کدے والو بتا دینا
جو گرنے اور سنبھلنے کا تماشا ہم نے دیکھا ہے
خلوص دل سے ساری سرحدیں مل جاتی ہیں نجمی
جہاں ملتے ہیں سب رستے وہ رستہ ہم نے دیکھا ہے
م ش نجمی
محمد شفیق نجمی
No comments:
Post a Comment