Sunday, 6 March 2022

رہ گزر ہی میں ٹھکانہ اچھا

رہ گذر ہی میں ٹھکانہ اچھا

آگے جانے سے نہ جانا اچھا

زخمِ احساس بلا استثنیٰ

دوست دشمن سے چھپانا اچھا

ہاتھ میں آ کے مسل جانے سے

پھول کا ہاتھ نہ آنا اچھا

جسدِ گل کے بکھر جانے پر

اس کو پلکوں سے اُٹھانا اچھا

ہم اگر در پہ نہیں آسکتے

تم تصور میں نہ آنا اچھا

تم بھی ہاتھوں میں اُٹھا لو پتھر

ہم بُرے سارا زمانہ اچھا

سب نے لکھیں ہیں قصیدے اشعر

ہاں مگر ہم نے نہ جانا اچھا


علی مطہر اشعر

No comments:

Post a Comment