رہ گذر ہی میں ٹھکانہ اچھا
آگے جانے سے نہ جانا اچھا
زخمِ احساس بلا استثنیٰ
دوست دشمن سے چھپانا اچھا
ہاتھ میں آ کے مسل جانے سے
پھول کا ہاتھ نہ آنا اچھا
جسدِ گل کے بکھر جانے پر
اس کو پلکوں سے اُٹھانا اچھا
ہم اگر در پہ نہیں آسکتے
تم تصور میں نہ آنا اچھا
تم بھی ہاتھوں میں اُٹھا لو پتھر
ہم بُرے سارا زمانہ اچھا
سب نے لکھیں ہیں قصیدے اشعر
ہاں مگر ہم نے نہ جانا اچھا
علی مطہر اشعر
No comments:
Post a Comment