Wednesday, 16 March 2022

اب دھوپ مقدر ہوئی چھپر نہ ملے گا

 اب دھوپ مقدر ہوئی چھپر نہ ملے گا

ہم خانہ بدوشوں کو کہیں گھر نہ ملے گا

آوارہ تمناؤں کو گر سمت نہ دو گے

بھٹکی ہوئی امت کو پیمبر نہ ملے گا

سورج ہی نظر آئے گا نیزے پہ ہمیشہ

سچائی کے شانوں پہ کبھی سر نہ ملے گا

الفاظ مسائل کے شراروں سے بھرے ہیں

غزلوں میں مری حسن کا پیکر نہ ملے گا

ہارو گے جو ہمت تو ڈبو دے گا سمندر

ساحل تمہیں کشتی سے اتر کر نہ ملے گا

اس باغ میں کھلتے ہیں ابھی جھلسے ہوئے پھول

اس باغ میں خوشبو کو ابھی گھر نہ ملے گا

یہ سوچ کے آیا ہے ترے شہر میں انجم

آئینوں کے اس شہر میں پتھر نہ ملے گا


فاروق انجم

No comments:

Post a Comment