Wednesday, 16 March 2022

اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسے

 اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسے

شبِ ہجراں، غمِ دوراں سے بڑی ہو جیسے

ہاں مجھے یاد ہے اب تک وہ جدائی کا سماں

ایسے بچھڑے کہ قیامت کی گھڑی ہو جیسے

نہ کوئی رنگ، نہ خوشبو، نہ بہاروں کا سراغ

زیست سوکھے ہوئے پھولوں کی لڑی ہو جیسے

بے سبب آج یہ دل میرا ہے ڈوبا ڈوبا

آنے والی کوئی مشکل کی گھڑی ہو جیسے

خوش ہیں یوں لوٹ کے ہم گوشۂ تنہائی میں

سانس لینے کی یہ فرصت بھی بڑی ہو جیسے

چند سکے لیے ہاتھوں میں وہ یوں نکلے ہیں

جنس الفت کسی رستے میں پڑی ہو جیسے

رات دن لوگ گناہوں میں لگے رہتے ہیں

توبہ کرنے کے لیے عمر پڑی ہو جیسے

فاصلہ تھوڑا سا طے کر کے میں رک جاتا ہوں

کوئی دیوار سی رستے میں کھڑی ہو جیسے

کامیابی کا سفر اتنا بھی دشوار نہیں

میرے پاؤں میں ہی زنجیر پڑی ہو جیسے

اسے دیکھا تو خدا آیا مجھے یاد نعیم

بت کافر سے مِری آنکھ لڑی ہو جیسے


نعیم چشتی

No comments:

Post a Comment