Monday, 6 June 2022

رکے ہوئے ہیں جو دریا انہیں روانی دے

رکے ہوئے ہیں جو دریا انہیں روانی دے

تو اپنے ہونے کی مجھ کو کوئی نشانی دے

پلٹ کے دیکھ لوں تجھ کو تو سنگ ہو جاؤں

مِرے یقین کو ایسی کوئی کہانی دے

میں شاہکار ہوں تیرا تو اے خدا اک دن

یہ مژدہ آ کے مِرے رو بہ رو زبانی دے

وہ میرے خوابوں کو آنکھوں سے چھین لیتا ہے

اسے نہ شہر تمنا کی حکمرانی دے

سمندروں پہ برس کر نہ ہو فنا بادل

جو لوگ پیاسے ہیں ان کے لبوں کو پانی دے

ہے تنگ میری نظر میں یہ کائنات تیری

مِرے خدا! مجھے ادراک لا مکانی دے

میں خالی ہاتھ ملوں تجھ سے کس طرح یا رب

کتاب سینے پہ میرے بھی آسمانی دے


رشید الظفر

No comments:

Post a Comment