Sunday, 10 July 2022

میں نے رکھا ہے جسے آنکھ میں دنیا کر کے

میں نے رکھا ہے جسے آنکھ میں دنیا کر کے

مجھ کو اک روز چلا جائے گا تنہا کر کے

میرے ہونے کا تصور ہی مجھے دے دیتا

وہ جو بیٹھا ہے مِری ذات پہ قبضہ کر کے

میں نے سوچا ہے اسے گِفٹ میں آنکھیں دوں گا

اس نے سوچا ہے مجھے جائے گا اندھا کر کے

زاویہ اس کا مِرا ایک نہیں ہو سکتا

دیکھتا ہے وہ مجھے آئینہ تِرچھا کر کے

اس لیے بھی میں امیروں کو نہیں پوچھوں گا

آ تو جائیں گے مگر آئیں گے نخرہ کر کے

میرا اس مر چکے انسان سے رشتہ تو نہیں

پھر بھی بہتر ہے کہ گھر جاؤں میں تِیجا کر کے

اس نے شارق سے بہت دور بسائی دنیا

سوچا مر جائے گا اس بات پہ چِنتا کر کے


شارق قمر

No comments:

Post a Comment