میں نے رکھا ہے جسے آنکھ میں دنیا کر کے
مجھ کو اک روز چلا جائے گا تنہا کر کے
میرے ہونے کا تصور ہی مجھے دے دیتا
وہ جو بیٹھا ہے مِری ذات پہ قبضہ کر کے
میں نے سوچا ہے اسے گِفٹ میں آنکھیں دوں گا
اس نے سوچا ہے مجھے جائے گا اندھا کر کے
زاویہ اس کا مِرا ایک نہیں ہو سکتا
دیکھتا ہے وہ مجھے آئینہ تِرچھا کر کے
اس لیے بھی میں امیروں کو نہیں پوچھوں گا
آ تو جائیں گے مگر آئیں گے نخرہ کر کے
میرا اس مر چکے انسان سے رشتہ تو نہیں
پھر بھی بہتر ہے کہ گھر جاؤں میں تِیجا کر کے
اس نے شارق سے بہت دور بسائی دنیا
سوچا مر جائے گا اس بات پہ چِنتا کر کے
شارق قمر
No comments:
Post a Comment