Sunday, 10 July 2022

تم میری اس وحشت کی رفیق ہو جو اب باقی نہیں رہی

 تم میری اس وحشت کی رفیق ہو

جو اب باقی نہیں رہی

جسے پی کر تم نے

رنگوں، پُھولوں، پربتوں

اور نظاروں کو دیکھنے اور ان سے

محبت کرنے کے آداب سِکھائے

میں کہ لکڑی کا وہ تختہ تھا

جس پر تم نے ہاتھوں سے دل کاڑھا

اور چُھو کر دھڑکن بھری


عمر انصاری

عمر لکھنوی

No comments:

Post a Comment