Tuesday, 5 July 2022

یہ سلسلہ غموں کا نہ جانے کہاں سے ہے

یہ سلسلہ غموں کا نہ جانے کہاں سے ہے

اہل زمیں کو شکوہ مگر آسماں سے ہے

یادوں کی رہگزار سے خوابوں کے شہر تک

اک سلسلہ ضرور ہے لیکن کہاں سے ہے

میری کتاب زیست کو ایسے نہ پھینکیے

روشن کسی کا نام اسی داستاں سے ہے

منزل نہ پائی میں نے مگر یہ تو کھل گیا

رشتہ مِرے سفر کا کسی کارواں سے ہے

موسم کی ہیر پھیر نے ثابت یہ کر دیا

کچھ میرے جسم کا بھی تعلق مکاں سے ہے

کہنے کو لوگ کیا نہیں کہتے شکیل کو

سننے کا اشتیاق تمہاری زباں سے ہے


شکیل گوالیاری

No comments:

Post a Comment