Sunday, 10 July 2022

دوست کی دشمنی سے واقف ہوں

دوست کی دشمنی سے واقف ہوں

آپ کی بے رُخی سے واقف ہوں

یہ متاع عزیز ہے میری

سوزشِ دائمی سے واقف ہوں

راس آئے نہ جس کو جنت بھی

دل کی اس بےکلی سے واقف ہوں

ننگ ظُلمت وطن میں آئی جو

اس نئی روشنی سے واقف ہوں

آج کی زندگی پہ ہے یہ بار

آج کے دائمی سے واقف ہوں

ایک شیطان، اک فرشتہ ہے

آدمی آدمی سے واقف ہوں

آشنا بھی ہوئے ہیں بے گانے

دوستو! مُفلسی سے واقف ہوں

کون دیکھے گا پیرہنِ صد چاک

اپنی اس بے کسی سے واقف ہوں

لمحہ بھر کِھل کے خاک میں مِلنا

پُھول کی تازگی سے واقف ہوں

طُور پہ جو نہ پا سکے موسیٰؑ

دل کی اس سرخُوشی سے واقف ہوں

فاش ہیں مجھ پہ رازِ یزدانی

عظمتِ بندگی سے واقف ہوں

اہل تنقید!، مطمئن رہیے

ادب اور زندگی سے واقف ہوں


سلطان الحق شہیدی

No comments:

Post a Comment