جب تمہارے عشق میں میں نے جلائیں انگلیاں
میرے پاگل پن پہ تم نے بھی اٹھائیں انگلیاں
چاہتوں کے دائرے جب بے نشاں ہونے لگے
پھر مِرے خون تمنا میں نہائیں انگلیاں
رات پھر ایسا ہوا کہ پیڑ کے سائے تلے
یاد آئے تم تمہاری یاد آئیں انگلیاں
چاہتوں کے سلسلے جب درمیاں بڑھنے لگے
اس نے بالوں میں مِرے اپنی گھمائیں انگلیاں
زندگی میری بھی اس دم جھومنے گانے لگی
فرط الفت سے مِری اس نے دبائیں انگلیاں
جب ملی تحریک مجھ کو قافیہ پیمائی کی
حرف کی حرمت لیے سجدے کو آئیں انگلیاں
سرنگوں کر کے جو پہنچی روضۂ اقدس پہ میں
جب دعا کو ہاتھ اٹھائے کپکپائیں انگلیاں
چشم و دل دیکھا کئے کہ ہاتھ میں افروز کی
انگلیوں سے مل کے اس کی جگمگائیں انگلیاں
افروز رضوی
No comments:
Post a Comment