بڑی چاہ سے دیکھنے آئی تھی تمہاری ماں
مجھے دیکھتے ہی تم نے
تمہارے باپ نے
تمہاری بہن نے
بہت زور سے کی تھی ہاں
جاتے جاتے بھی تمہاری ماں نے
بلائیں لی تھیں
بہت دردناک طریقے سے
لوٹائی ہیں
تم نے کئی بار مجھے فون پر کہا تھا
تم کو ہم پھولوں کی طرح رکھیں گے
تم نے کہا تھا میرے باپ سے
اس کو جیسے آپ نے
پلکوں پر بٹھایا تھا
اس کو ہم بھی آبگینہ سمجھیں گے
بکھرا دیا وہ آبگینہ
پھول کو کانٹوں سے روند دیا
تمہارے فون پر وہ میسیج
اب بھی میرے پاس ہیں
جس میں تم نے
ہر بات پر دل کا نشان بھیجا تھا
وہ سرخ نشان
میرے چہرے پر
اب عیاں ہوا ہے
مجھے واپس کر دو
میرے وہ دن، میری دہلیز
مجھے وفا اور بے وفائی پر کوئی
شکوہ نہیں
مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں
چہرے سے شاید
مٹ جائے گا یہ نشان
دل میں مگر وہ دھتکار
کرتی رہیں گی پریشان
مجھ کو میرے بابل کی چوکھٹ پر
واپس پھینک دو
گھر سے مجھ کو باہر کر دو
خدا کرے اس دہلیز پر تمہاری
کسی کی بیٹی پھر نہ آئے
ایسے تمغے ہی نہ پائے
صہیب جمال
No comments:
Post a Comment