Friday, 8 July 2022

بڑی چاہ سے دیکھنے آئی تھی تمہاری ماں

 بڑی چاہ سے دیکھنے آئی تھی تمہاری ماں

مجھے دیکھتے ہی تم نے

تمہارے باپ نے

تمہاری بہن نے

بہت زور سے کی تھی ہاں

جاتے جاتے بھی تمہاری ماں نے

بلائیں لی تھیں

بہت دردناک طریقے سے

لوٹائی ہیں

تم نے کئی بار مجھے فون پر کہا تھا

تم کو ہم پھولوں کی طرح رکھیں گے

تم نے کہا تھا میرے باپ سے

اس کو جیسے آپ نے

پلکوں پر بٹھایا تھا

اس کو ہم بھی آبگینہ سمجھیں گے

بکھرا دیا وہ آبگینہ

پھول کو کانٹوں سے روند دیا

تمہارے فون پر وہ میسیج

اب بھی میرے پاس ہیں

جس میں تم نے

ہر بات پر دل کا نشان بھیجا تھا

وہ سرخ نشان

میرے چہرے پر

اب عیاں ہوا ہے

مجھے واپس کر دو

میرے وہ دن، میری دہلیز

مجھے وفا اور بے وفائی پر کوئی

شکوہ نہیں

مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں

چہرے سے شاید

مٹ جائے گا یہ نشان

دل میں مگر وہ دھتکار

کرتی رہیں گی پریشان

مجھ کو میرے بابل کی چوکھٹ پر

واپس پھینک دو

گھر سے مجھ کو باہر کر دو

خدا کرے اس دہلیز پر تمہاری

کسی کی بیٹی پھر نہ آئے

ایسے تمغے ہی نہ پائے


صہیب جمال

No comments:

Post a Comment