جشنِ آزادی کی مناسبت سے
لایا ہے رنگ خونِ وفا مُدتوں کے بعد
ٹوٹی ستم کی تیغِ جفا مدتوں کے بعد
میرے وطن کے دشت کی ریگِ تپاں پہ آج
برسی ہے رحمتوں کی گھٹا مدتوں کے بعد
اب تک ہر ایک غنچہ تبسم پذیر ہے
آئی کہاں سے ایسی صبا مدتوں کے بعد
(ق)
درسِ وفا کو بھول کے پھر، سائے کی طرح
اک اور ہم پہ وقت پڑا مدتوں کے بعد
قومیتوں کے ایسے تراشے گئے صنم
ہم کو خدا بھی بھول گیا مدتوں کے بعد
گل کر رہے ہیں آج وہی شمعِ رہگزر
ہم سے ہوئی جو جلوہ نما مدتوں کے بعد
میرے وطن کو اوجِ ثریا نصیب ہو
یارب قبول ہو یہ دعا مدتوں کے بعد
ریاض راہی
No comments:
Post a Comment