عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ امام حسین
حسین و منی سمجھتا ہے بس گدائے حسینؑ
کہ جو برائے محمدﷺ، وہی برائے حسین
ہم اپنے اپنے اماموں کے ساتھ ہوں محشور
تجھے یزید، مجھے حشر میں اٹھائے حسین
جو ایک شب میں علیہ السلام ہو جائے
تُو حُر سے پوچھ کہ ہوتی ہے کیا عطائے حسین
امام کو نہیں حاجت ہماری نصرت کی
وہ خوش نصیب ہیں جن کو مگر بلائے حسین
ہر ایک شخص پہ کھلتا نہیں یہ اسم خاص
ہر ایک روح پہ نعمت نہیں ولائے حسین
تجھے بھی چاند محرم کا جب دکھائی پڑے
تو ہاتھ مار کے سینے پہ بول، ہائے حسین
فاخر رضوی
No comments:
Post a Comment