Saturday, 17 September 2022

افکار کا اسلاف کا ہر بات کا رد ہے

 افکار کا اسلاف کا ہر بات کا رد ہے 

یہ تیرا نہیں میرا نہیں ذات کا رد ہے

پو جو پھوٹی ہے مشرق کی طرف سے 

یہ گزری ہوئی رات کی اوقات کا رد ہے 

شہ کو شطرنج کو مہروں کو زرا دیکھ

یہ تیری مجھے دی ہوئی مات کا رد ہے 

حکم کو دلیل کی حاجت نہیں ہوتی

نہ ہی تو تیری ساری عبادات کا رد ہے 

ولی! ان کا تبسم کسی اور کی خاطر 

یہ میرا نہیں میری مناجات کا رد ہے 


زاویار ولی

No comments:

Post a Comment