افکار کا اسلاف کا ہر بات کا رد ہے
یہ تیرا نہیں میرا نہیں ذات کا رد ہے
پو جو پھوٹی ہے مشرق کی طرف سے
یہ گزری ہوئی رات کی اوقات کا رد ہے
شہ کو شطرنج کو مہروں کو زرا دیکھ
یہ تیری مجھے دی ہوئی مات کا رد ہے
حکم کو دلیل کی حاجت نہیں ہوتی
نہ ہی تو تیری ساری عبادات کا رد ہے
ولی! ان کا تبسم کسی اور کی خاطر
یہ میرا نہیں میری مناجات کا رد ہے
زاویار ولی
No comments:
Post a Comment