Tuesday, 9 May 2023

تم سے بچھڑ کے خود سے بھی ہم دور ہو گئے

 تم سے بچھڑ کے خود سے بھی ہم دور ہو گئے

گمنام ہو کے اور بھی مشہور ہو گئے

یہ اور بات تم نہ سہی دوسرا سہی

کچھ فیصلے تو ہم کو بھی منظور ہو گئے

شہرت جنہیں ملی تھی ہماری دعاؤں سے

قدرت کی شان ہم سے بھی مغرور ہو گئے

میں نے تو تم کو ٹوٹ کے چاہا تھا جانِ جاں

تم جانے کس خیال سے مجبور ہو گئے

ہاں اپنی شاعری پہ ہمیں ناز ہے غزل

کہنے کو اپنے خواب کئی چور ہو گئے


غزل جعفری

No comments:

Post a Comment