بادِ سحر سے جوڑ کے صرصر کا سلسلہ
صحنِ چمن سے دشت کی فطرت تو مت ملا
تیرا بھرم بھی کُھل ہی گیا سوزنِ جنوں
تجھ سے بھی میرا زخمِ تمنا نہیں سِلا
آخر نچڑ کے گر گیا آنکھوں کی اوک سے
اے خواب تجھ کو ہونے کی عجلت سے کیا ملا
میں نے تِری کشش میں ہزاروں سفر کیے
تو اِک قدم بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا
میں بھر نہیں سکا کبھی سانسوں میں روشنی
اِس بات پر ہواؤں سے بنتا تو ہے گِلہ
جا میں نے تجھ کو چھوڑ دیا تیرے حال پر
اب تجھ پہ اختیار نہیں ہے مرے دِلا
جنید آزر
No comments:
Post a Comment