Friday, 13 November 2015

نہ اب وہ خوش نظری ہے نہ خوش خیالی ہے

نہ اب وہ خوش نظری ہے نہ خوش خیالی ہے  

یہ کیا ہوا مجھے، یہ وضع کیا بنا لی ہے

یہ حال ہے مِرے دیوار و در کی وحشت کا

کہ میرے ہوتے ہوئے بھی مکان خالی ہے

دَمِ نظارہ مِری حیرتوں پہ غور نہ کر

کہ میری آنکھ ازل سے یونہی سوالی ہے

مِرے وجود کو جس نے جلا کے خاک کِیا

وہ آگ اب تِرے دامن تک آنے والی ہے

گزرتی شب کا ہر اک لمحہ کہہ گیا مجھ سے

سحر کے بعد بھی اک رات آنے والی ہے

مسافرانِ رہِ شوق تھک گئے ہیں تو کیا

جہاں رکے وہیں بستی نئی بسا لی ہے


مشفق خواجہ

No comments:

Post a Comment