Wednesday, 11 November 2015

سچ بولتے فنکار کو چپ کیسے کیا جائے

سچ بولتے فنکار کو چپ کیسے کیا جائے
آواز کے حقدار کو چپ کیسے کیا جائے
چیخوں کو تو دفنا دیا دیوار کے پیچھے
گرتی ہوئی دیوار کو چپ کیسے کیا جائے
پہنا تو گئے ہو مِرے نغمات کو زنجیر
زنجیر کی جھنکار کو چپ کیسے کیا جائے 
بکنے کے لیے آیا ہے ہر ایک خریدار
لُٹتے ہوئے بازار کو چپ کیسے کیا جائے
آواز دبا کر مِری وہ سوچ رہا ہے
خاموشی کی للکار کو چپ کیسے کیا جائے
تکلیف سے جو چارہ گرو چیخ رہا ہو
ایسے کسی بیمار کو چپ کیسے کیا جائے
جلتے ہوئے آنسو تو مظفرؔ میں بجھا دوں
برسات کی بوچھار کو چپ کیسے کیا جائے

مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment