سچ بولتے فنکار کو چپ کیسے کیا جائے
آواز کے حقدار کو چپ کیسے کیا جائے
چیخوں کو تو دفنا دیا دیوار کے پیچھے
گرتی ہوئی دیوار کو چپ کیسے کیا جائے
پہنا تو گئے ہو مِرے نغمات کو زنجیر
بکنے کے لیے آیا ہے ہر ایک خریدار
لُٹتے ہوئے بازار کو چپ کیسے کیا جائے
آواز دبا کر مِری وہ سوچ رہا ہے
خاموشی کی للکار کو چپ کیسے کیا جائے
تکلیف سے جو چارہ گرو چیخ رہا ہو
ایسے کسی بیمار کو چپ کیسے کیا جائے
جلتے ہوئے آنسو تو مظفرؔ میں بجھا دوں
برسات کی بوچھار کو چپ کیسے کیا جائے
مظفر وارثی
No comments:
Post a Comment